پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ اور مغربی ملکوں کا
بغض ختم ہونے کو نہیں آتا۔ اس پروگرام کی جب ذوالفقار علی بھٹو نے بنیاد
رکھی تو اس وقت مغربی ملکوں میں اس پروگرام کو رکوانے کے لئے سازشیں شروع
کر دی گئی تھیں۔ یہ بات تو ریکارڈ پر ہے امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری
کسنجر نے 1976 ء میں لاہور میں مسٹر بھٹو سے ملاقات کر کے انہیں دھمکی دی
تھی کہ وہ فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی کوششیں ترک کر دیں۔
اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کو عبرتناک مثال بنا دیا جائے گا۔
تمام تر سازشوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کا کام جاری رکھا۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے دشمن ایک ہی صفحہ پر اکٹھے ہو گئے۔ بھارت اور اسرائیل نے 1984 ء کے آخر میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری پر حملہ کی منصوبہ بندی بھی کی تھی اس کا تذکرہ کئی دستاویزات میں موجود ہے جس کا قبل ازوقت علم ہو جانے پر پاکستان نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔ بھارت کو پیغام دیا گیا تھا کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کی کسی ایٹمی تنصیب پر حملہ کی کوشش کی تو بھارت کی ایٹمی تنصیبات پر جوابی حملہ کیا جائے گا۔ تمام بین الاقوامی سازشوں کو ناکام بنا کر پاکستان نے 28 مئی 1998 ء کو پانچ ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ لیکن ابھی تک اس کے پروگرام کے خلاف پروپیگنڈہ بند نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے ایٹم بم کو ’’اسلامی بم‘‘ قرار دیا گیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے بدھ کے روز یہاں دارالحکومت میں سنٹر فار پاکستان اینڈ گلف سٹڈیز کے زیراہتمام ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار میں کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم وہ واحد بم ہے جس کا مذہب ہے باقی دنیا کے کسی بھی ایٹمی پروگرام یا بم کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
اس سیمینار میں امریکی دانش ور اور سابق نائب وزیر دفاع چیٹر لیوائے نے بھارت کے ساتھ امریکہ کے سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے سمجھوتے کو ایک جیو سٹریٹجک سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ یہ سمجھوتہ بالکل اسی طرح کی تاریخی سفارتی پیش رفت تھی جس طرح ستر کے عشرہ کے شروع میں امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کئے تھے۔ چیٹر لیوائے جو حال ہی میں امریکی حکومت سے الگ ہوئے ہیں کے خیالات کو واشنگٹن میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ سیکورٹی اور دہشت گردی کے امور اور دہشت گردی کے موضوع پر ان کی تحریروں کو پالیسی ساز حلقوں میں بہت کلیئر سمجھا جاتا ہے۔ چیٹر لیوائے نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان سویلین نیوکلئر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے لئے جو شرائط عائد کیں ان سے پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ کا پتہ چلتا ہے۔ موصوف نے کہا کہ پاکستان اگر بھارت کی طرز پر امریکہ کے ساتھ سویلین نیوکلیئر سمجھوتہ چاہتا ہے تو اسے ایٹمی ٹیکنالوجی کے دوسرے ملکوں میں منتقلی کو روکنا ہو گا۔ پاکستان کو اپنے میزائلوں کی رینج کم کرنا ہو گی۔ اسے عسکریت پسندوں کو خارجہ پالیسی کے مقاصد پورے کرنے کے لئے استعمال کرنے کی پالیسی چھوڑنا ہو گی۔ اگلی ہی سانس میں چیٹر لیوائے نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سویلین ایٹمی توانائی کے شعبہ میں پاکستان سے تعاون کا امریکہ سمیت کسی کو کوئی تجارتی فائدہ نہیں ہے۔
پیٹر لیوائے سے ایک قدم آگے جاتے ہوئے برطانیہ میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے مارک فیٹز پیٹرک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پرانی لائن لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔ موصوف نے کہا کہ ملا عمر‘ ایمن الظواہری‘ حافظ سعید جو بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیئے گئے ہیں پاکستان میں موجود ہیں۔ ساٹھ سے زیادہ عسکریت پسندوں کے گروپ سرگرم عمل ہیں۔ مارک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ایک کتاب OVERCOMING PAKISTAN,S NUCEAR DANGERS بھی سیمینار کے شرکاء کو فروخت کی۔
مسٹر مارک فٹز پیٹرک نے جمعرات کے روز انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں ایک لیکچر میں پاکستان پر یہ الزام دھر دیا کہ پاکستان سعودی عرب کو ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی میزائل فراہم کر سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب ایرانی ایٹمی طاقت کے مقابلے میں توازن چاہتا ہے۔ ستر کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان کا ایٹمی پروگرام مغربی دنیا کو ہضم نہیں ہو رہا اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ جاری ہے۔ اسیّ کی عشرہ میں لکھی گئی کتاب THE ISAMIC BOMB میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پچاس کے عشرہ میں مصر کی طرف سے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا اور اس کے بعد عراق کی طرف سے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کو ایک مرتبہ 1976 ء میں ناکام بنایا اور دوسری مرتبہ 1982ء میں اسرائیلی طیاروں نے عراقی ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔ اس موضوع پر ایک کتاب TWO MINUTGS OVER BAGHDAD بھی موجود ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان کارروائیوں سے بچا رہا لیکن اس کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے۔
تمام تر سازشوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کا کام جاری رکھا۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے دشمن ایک ہی صفحہ پر اکٹھے ہو گئے۔ بھارت اور اسرائیل نے 1984 ء کے آخر میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری پر حملہ کی منصوبہ بندی بھی کی تھی اس کا تذکرہ کئی دستاویزات میں موجود ہے جس کا قبل ازوقت علم ہو جانے پر پاکستان نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔ بھارت کو پیغام دیا گیا تھا کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کی کسی ایٹمی تنصیب پر حملہ کی کوشش کی تو بھارت کی ایٹمی تنصیبات پر جوابی حملہ کیا جائے گا۔ تمام بین الاقوامی سازشوں کو ناکام بنا کر پاکستان نے 28 مئی 1998 ء کو پانچ ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ لیکن ابھی تک اس کے پروگرام کے خلاف پروپیگنڈہ بند نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے ایٹم بم کو ’’اسلامی بم‘‘ قرار دیا گیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے بدھ کے روز یہاں دارالحکومت میں سنٹر فار پاکستان اینڈ گلف سٹڈیز کے زیراہتمام ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار میں کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم وہ واحد بم ہے جس کا مذہب ہے باقی دنیا کے کسی بھی ایٹمی پروگرام یا بم کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
اس سیمینار میں امریکی دانش ور اور سابق نائب وزیر دفاع چیٹر لیوائے نے بھارت کے ساتھ امریکہ کے سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے سمجھوتے کو ایک جیو سٹریٹجک سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ یہ سمجھوتہ بالکل اسی طرح کی تاریخی سفارتی پیش رفت تھی جس طرح ستر کے عشرہ کے شروع میں امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کئے تھے۔ چیٹر لیوائے جو حال ہی میں امریکی حکومت سے الگ ہوئے ہیں کے خیالات کو واشنگٹن میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ سیکورٹی اور دہشت گردی کے امور اور دہشت گردی کے موضوع پر ان کی تحریروں کو پالیسی ساز حلقوں میں بہت کلیئر سمجھا جاتا ہے۔ چیٹر لیوائے نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان سویلین نیوکلئر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے لئے جو شرائط عائد کیں ان سے پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ کا پتہ چلتا ہے۔ موصوف نے کہا کہ پاکستان اگر بھارت کی طرز پر امریکہ کے ساتھ سویلین نیوکلیئر سمجھوتہ چاہتا ہے تو اسے ایٹمی ٹیکنالوجی کے دوسرے ملکوں میں منتقلی کو روکنا ہو گا۔ پاکستان کو اپنے میزائلوں کی رینج کم کرنا ہو گی۔ اسے عسکریت پسندوں کو خارجہ پالیسی کے مقاصد پورے کرنے کے لئے استعمال کرنے کی پالیسی چھوڑنا ہو گی۔ اگلی ہی سانس میں چیٹر لیوائے نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سویلین ایٹمی توانائی کے شعبہ میں پاکستان سے تعاون کا امریکہ سمیت کسی کو کوئی تجارتی فائدہ نہیں ہے۔
پیٹر لیوائے سے ایک قدم آگے جاتے ہوئے برطانیہ میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے مارک فیٹز پیٹرک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پرانی لائن لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔ موصوف نے کہا کہ ملا عمر‘ ایمن الظواہری‘ حافظ سعید جو بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیئے گئے ہیں پاکستان میں موجود ہیں۔ ساٹھ سے زیادہ عسکریت پسندوں کے گروپ سرگرم عمل ہیں۔ مارک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ایک کتاب OVERCOMING PAKISTAN,S NUCEAR DANGERS بھی سیمینار کے شرکاء کو فروخت کی۔
مسٹر مارک فٹز پیٹرک نے جمعرات کے روز انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں ایک لیکچر میں پاکستان پر یہ الزام دھر دیا کہ پاکستان سعودی عرب کو ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی میزائل فراہم کر سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب ایرانی ایٹمی طاقت کے مقابلے میں توازن چاہتا ہے۔ ستر کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان کا ایٹمی پروگرام مغربی دنیا کو ہضم نہیں ہو رہا اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ جاری ہے۔ اسیّ کی عشرہ میں لکھی گئی کتاب THE ISAMIC BOMB میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پچاس کے عشرہ میں مصر کی طرف سے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا اور اس کے بعد عراق کی طرف سے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کو ایک مرتبہ 1976 ء میں ناکام بنایا اور دوسری مرتبہ 1982ء میں اسرائیلی طیاروں نے عراقی ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔ اس موضوع پر ایک کتاب TWO MINUTGS OVER BAGHDAD بھی موجود ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان کارروائیوں سے بچا رہا لیکن اس کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/09-May-2014/301613
No comments:
Post a Comment